قومی کرکٹ ٹیم 137

یقین تھا کہ میرا وقت بھی آئے گا: عابد علی

یقین تھا کہ میرا وقت بھی آئے گا: عابد علی

بارہ سال ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر 106 فرسٹ کلاس میچز میں 7116 رنز بنا لیے اور ان دنوں تین سیزن کے دوران 57.43 کی حیرت کن اوسط سے رنز بنائے۔ دو سال قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت کی دوڑ میں رہنے کے بعد عابد علی بالا آخر ایک یادگار موقع پر پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میچ کھیلنے میں اس وقت کامیاب ہوئے جب 10 سال کے وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہوئی۔ کئی پاکستانی کھلاڑیوں کی طرح عابد علی نے اپنے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز ایسے پوقت کیا جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بند تھی۔ عابد علی نے 31 سال کی عمر میں اپنے پہلے ٹیسٹ کو اس وقت یادگار بنا دیا جب انہوں نے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ میں سینچری بنا دی کی۔ اس کے ساتھ ہی عابد علی نے کرکٹ کی تاریخمیں اپن پہلے ون ڈے اور ٹیسٹ میچوں میں سینچری سکور کرنے والے پہلے کرکٹر ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’سخت محنت نے میری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔‘
عابد علی ایک سال سے زیادہ قومی ٹیم میں شامل تھے لیکن وہ پلیئنگ الیون میں جگہ نہ بنا پاتے۔ جب پاکستان نے اپنے ٹاپ آرڈر کو رواں سال کے اوائل میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ سے پہلے آرام دینے کا فیصلہ کیا تو عابد علی کو متحدہ عربکامارات میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شمولیت کا موقع ملا اور عابد نے اس موقع کو پہلے ون ڈے میں سینچری سکور کر کے اسے یادگار بنا ڈالا۔
آخر کار ان کو وہ موقع ملا اور پہلے میچ میں سینچری بنا لی۔ ’ڈیبیو میچ میں سینچری سے زیادہ مجھے کیا چاہیے۔ میں نے اس دن کے لیے بہت انتظار کیا تھا۔‘
امام الحق کی بینچ پر موجودگی کے باوجود عابد کا کہنا تھا کہ وہ اس سے پریشان نہیں ہوئے۔ ’مجھے پتہ ہے مقابلہ سخت اور مشکل ہے اور ان دنوں میں یہ اور بھی مشکل ہوا ہے۔ لیکن مجھے پرفارم کرتے رہنا ہے تاکہ میں مستقل رہوں۔‘
’مجھے اپنے کھیل کو اوربہتر بنانا ہے اور ہر موقع پر مجھے اچھا کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ‘
عابد علی کے مطابق انہوں نے مواقع نہ ملنے پر کبھی شکایت نہیں کی بلکہ وہ مطمئن رہے کہ انہیں جو ملنا ہے وہ ملے گا۔ ’میں نے اپنے ٹائم کا انتظار کیا جو کہ آخر کار مجھے مل گیا۔ اگر اس موقع پر میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا تو میرے لیے بہت زیادہ مایوسی والی بات ہوتی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میری سخت محنت کا پھل مجھے مل گیا۔‘
سری لناکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے آخری دن بابر اعظم کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے عابد علی بہت مطمئن نظر آئے خالانکہ کپتان اظہر علی کے ساتھ بیٹنگ کے دوران ان کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک موقع پر وہ رن آوٹ ہوتے ہوتے بچ گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں