162

کیا انسانی آنکھ 576میگا پکسل ہے؟

کیا انسانی آنکھ 576میگا پکسل ہے؟

کیا یہ درست ہے کہ انسانی آنکھ کی ریزولوشن 576 میگا پکسل ہے؟

انسانی آنکھ کی ریزولوشن 576 میگا پکسل نہیں ہے – انسانی آنکھ کی ساخت کیمرے کی ساخت سے مختلف ہوتی ہے اگرچہ روشنی سے شبیہہ بنانے کے بنیادی اصول کیمرے اور آنکھ دونوں میں استعمال ہوتے ہیں – جدید ڈیجیٹل کیمروں میں امیج سینسرز ہوتے ہیں جن میں لاکھوں پکسل ہوتے ہیں اور تمام پکسل exactly ایک جیسے ہوتے ہیں – اس کے برعکس آنکھ میں پکسل نہیں ہوتے بلکہ روشنی ڈیٹیکٹ کرنے کے خلیے ہوتے ہیں جو مختلف قسموں کے ہوتے ہیں – کل ملا کر دیکھا جائے تو انسانی آنکھ میں تقریباً 12 کروڑ خلیے ہوتے ہیں جو روشنی کو ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں – پردہِ بصارت کے عین درمیان میں (جسے Fovea کہا جاتا ہے) تو ان خلیوں کی تعداد اور کثافت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن اسے کے مرکز سے ذرا دور جائیں تو ان خلیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے – ان میں سے صرف ساٹھ لاکھ کے قریب خلیے (جنہیں cones کہا جاتا ہے) رنگوں کو ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں اور ان میں سے صرف ایک لاکھ سے بھی کم خلیے نیلے رنگ کے فوٹونز کو ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں – گویا 11 کروڑ سے زیادہ خلیے (جنہیں rods کہا جاتا ہے) صرف سفید روشنی کو ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں لیکن رنگ نہیں دیکھ سکتے – دن کی روشنی میں محض کونز ہی کام کر پاتے ہیں – راڈز اتنی زیادہ روشنی میں saturate ہو جاتے ہیں اور کام نہیں کرتے – اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دن کے وقت آنکھ کی ریزولوشن صرف ساٹھ لاکھ یعنی 6 میگا پکسل ہوتی ہے لیکن دن کے وقت آنکھ مختلف رنگ بخوبی دیکھ سکتی ہے – کم روشنی میں آنکھ کی ریزولوشن تو بڑھ جاتی ہے لیکن پھر یہ رنگ نہیں دیکھ پاتی – اسی لیے جھٹ پٹے کے وقت جب روشنی کم ہوتی ہے ہم رنگ نہیں دیکھ پاتے

لیکن آنکھ کے مسائل یہیں پر ختم نہیں ہو جاتے – آنکھ کے عدسے اور پردہِ بصارت کے درمیان خون کی رگیں اور وہ nerves ہیں جو پردہِ بصارت پر بننے والی شبیہہ کو بجلی کی لہروں میں منتقل کر کے دماغ تک پہنچاتی ہیں – انہیں آنکھ کی وائرنگ سمجھ لیجیے – گویا آپ کی آنکھوں کے وائرنگ آنکھ کے عدسے اور پردہِ بصارت کے درمیان حائل ہے اورپردہِ بصارت پر بہتر شبیہہ بنانے میں مانع ہے – اس کے برعکس جدید کیمروں کے سینسرز میں یہ وائرنگ سینسر کے پیچھے ہوتی ہے تاکہ عدسے کی شعاعیں سینسر پر فوکس ہو سکیں – کچھ جانوروں کی آنکھوں میں یہ وائرنگ سینسرز کے پیچھے ہوتی ہے جن میں آکٹوپس اور اس کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں – اسی وجہ سے آکٹوپس کی نظر بہت تیز ہوتی ہے –

اس وائرنگ سے پردہِ بصارت پر بننے والی شبیہہ میں جو بگاڑ آتا ہے ہمارا دماغ اسے بصارت کی پراسیسنگ کے دوران درست کر دیتا ہے یعنی اس کو compensate کر دیتا ہے جس وجہ سے ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ وائرنگ ہماری نظر میں حائل ہو رہی ہے – یہ وائرنگ ایک بنڈل کی صورت میں آنکھ کے پیچھے سے باہر نکل کر دماغ میں جاتی ہے – ایسا کرنے کے لیے ہماری آنکھ کے پردہِ بصارت میں ایک سوراخ ہوتا ہے جس میں سے یہ وائرنگ آنکھ سے باہر آپٹک نروو (optic nerve) کی صورت میں نکلتی ہے – ظاہر ہے کہ اس سوراخ کی وجہ سے ہمارے دائرہِ بصارت میں ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں ہماری نظر کام نہیں کرتی – اس مقام کو بلائنڈ سپاٹ کہا جاتا ہے – ہمارا دماغ انتہائی چابکدستی سے اس بلائنڈ سپاٹ کو یوں پر کرتا ہے کہ ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہمارے دائرہِ بصارت میں ایک مقام پر کوئی بصارت نہیں – ایسا کرنے کے لیے دماغ دونوں آنکھوں سے آنے والے سگنلز کو استعمال کر کے اس مقام کو پر کر دیتا ہے – چونکہ دنوں آنکھوں میں اس بلائنڈ سپاٹ کی پوزیشن فرق ہوتی ہے اس لیے ایک آنکھ کے سگنل سے ملنے والی انفارمیشن سے دماغ دوسری آنکھ کے بلائنڈ سپاٹ کو پر کر دیتا ہے اس لیے ہمیں شعوری طور پر اس بلائنڈ سپاٹ کا احساس بھی نہیں ہوتا – لیکن اگر آپ ایک آنکھ بند کر کے صرف ایک آنکھ سے کسی منظر کو دیکھیں تو اس بلائنڈ سپاٹ کو آسانی سے دریافت کر سکتے ہیں

جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ آنکھ کی مجموعی ریزولوشن بہت کم ہے لیکن اس میں ایک مرکزی جگہ ایسی ہے جس میں ریزولوشن بہت زیادہ ہے – اس مقام کو Fovea کہا جاتا ہے – ہمیں شعوری طور پر کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس مرکز کے علاوہ باقی دائرہِ بصارت کی ریزولوشن بہت کم ہے – اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ ایک سیکنڈ میں 70 سے 110 دفعہ حرکت کرتی ہے جسے microtremors کہا جاتا ہے – دوسرے الفاظ میں آنکھ کسی بھی منظر کو تیزی سے scan کرتی ہے – دماغ اس انفارمیشن کو integrate کرتا ہے جس کی وجہ سے ہمیں شعوری طور پر یہ احساس ہوتا ہے گویا ہم ہر چیز ہائی ریزولوشن میں دیکھ رہے ہیں – اس کے علاوہ دماغ دونوں آنکھوں سے الگ الگ آنے والے سگنلز کو بھی integrate کر کے منظر میں depth پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ منظر مزید ہائی ریزولوشن معلوم ہوتا ہے

اس تمام بحث کو لب لباب یہ ہے کہ انسانی آنکھ کی ریزولوشن آنکھ سے زیادہ دماغ میں ہونے والی پراسیسنگ کی وجہ سے زیادہ معلوم ہوتی ہے – لیکن آنکھ اور کیمرے کی ریزولوشن کا براہِ راست مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔

ساتھ لگی تصویر انسانی آنکھ کی ہے جو ایک اچھے کیمرے سے لی گئی ہے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں