140

چکوٹھی کے دھرنے میں شریک خواتین نے کیا دیکھا:کرن علی


ایک منظر ریاست جموں کشمیر کے روشن خیال ذہنوں کا یہ بھی تھا جب۔
ساری دنیا نے دیکھا ہم اپنے وطن اور قوم کے لیے 15 دن سڑکوں پر اپنے بھائیوں بزرگوں کے ساتھ بیٹھی رہی ہیں۔
ہم اتنے باعزت اور وقار کے ساتھ بیٹھی تھیں کہ اہل علاقہ کے علاوہ پورے آزاد کشمیر سے لوگ اپنی بیٹیاں اور بہنیں ہم سے ملوانے دھرنے میں لے کر جاتے تھے، جن میں بہت بڑی تعداد سادات فیملی کی خواتین ہوتی تھیں،
ہم دھرنے میں جب اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی تھیں تو دس لوگ ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے پوچھنے کے لیے، باجی کیا چاہئیے کہاں جانا، ہم لے کر چلتے ہیں،
ہم ریلی میں چلتی تھیں تو بغیر کسی کے کہے ہر کارکن اپنی ڈیوٹی سمجھ کر حفاظتی حصار بنا کر ہمارے ساتھ چلتا تھا۔
ہم جس بازار سے گزرتی تھیں لوگ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے شفقت بھرے ہاتھ سروں پر رکھتے تھے اور فخر سے بولتے تھے ہماری بیٹاں جا رہی ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں لوگ تھے ریلی میں سب ہمارے کارکن بھی نہیں تھے لیکن ایک ذرا سا ناخوشگوار واقعہ نا ہی اس ریلی اور دھرنے میں اور نا ہی کبھی اس سے پہلے پیش آیا ہے،
ہم نے رات بھی دھرنے میں گزاری ہیں اور دن بھی محبت، عزت ،تحفظ کا احساس تھا کہ وہ جگہ گھر سے بڑھ کر لگتی تھی۔۔
اور ایک منظر وہ بھی ہے جو کل میرپور میں لوگوں نے دیکھا جب ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں اپنی خواتین کو تحریک آزادی میں شانہ بشانہ ساتھ لے کر چلو تو ہمیں بتایا جاتا کہ نہیں بھئ ہماری بیٹیاں جلسے جلوس میں نہیں جا سکتی لیکن جب اقتدار کی ہوس کے مارے سیاستدانوں کی الیکشن کمپئن چلانی ہو تو ناچنے کی اجازت بھی مل جاتی ہے،
پھر نا تو برادری کو کوئی مسلہ ہوتا ہے اور نا ہی کوئی فتوی آتا ہے،
ہاں جب قوم پرستی کی بات آئے تب ضرور بہت سارے دانشور خواتین کے خلاف نمودار ہو جاتے ہیں۔
اب بھی اگر سمجھنے والے فرق کو نا سمجھیں گے تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں