مسجد نبوی کی صفائی 149

مسجد نبوی کی صفائی پر لگے افراد کی تعداد کتنی ہے؟

مسجد نبوی کی صفائی پر لگے افراد کی تعداد کتنی ہے؟

مسجد نبوی کی صفائی کے لیے 1520سے زیادہ مرد اور خواتین تعینات ہیں۔ صفائی کے کام انجام دینے کے لیے 35 جدید مشینیں بھی زیر استعمال ہیں، یہ مشینیں بیٹری کے ساتھ بغیر آواز کیے کام کرتی ہیں۔

                                    (مسجد میں آنے والوں کے جوتے رکھنے کے لیے 2800 شیلف موجود ہیں۔(فوٹو المدینہ

مسجد نبوی کی صفائی اور قالینوں کی نگرانی انتظامیہ کے سربراہ خالد الرحیلی نے المدینہ اخبار سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کیا مسجد نبوی کے اندر اور باہر حصوں سے 45 ٹن کچرا سالانہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان میں زم زم پینے کے استعمال شدہ گلاس اور مختلف اشیاء اور افطاری کے وقت استعمال ہونے والے ڈسپوزایبل ڈبے گلاس وغیرہ شامل ہیں۔
خالد الرحیلی نے مزید بتایا کہ مسجد میں آنے والوں کے جوتے رکھنے کے لیے 2800 شیلف لگائے گے ہیں۔ الرحیلی کے مطابق مسجد نبوی کے اندرونی اور بیرونی حصوں اور اس کی چھت کی صفائی کے لیے 1320 مرد موجود ہیں جبکہ مسجد میں خواتین کے لیے مخصوص حصے میں 200 خواتین صفائی اور متعلقہ کام انجام دیتی ہیں۔
مسجد کی چھت، اس کے فرش اور راستے کو روزانہ تین مرتبہ دھویا جاتا ہے جبکہ بارشوں اور گرد و غبار آجانے کے موقع پر دھلائی اور صفائی کا عمل روزانہ پانچ مرتبہ انجام دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 35 جدید مشینوں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید بتایا کہ مسجد نبوی کے اطراف بیت الخلا کے 18 حصے ہیں جن میں 5 حصے خواتین کے لیے ہیں۔ ہر حصے تین منزلہ ہیں، بیت الخلا کی مجموعی تعداد 2514 بنتی ہے۔
معذور افراد کے لیے علیحدہ سے بیت الخلا کا حصے موجود ہے۔ تمام بیت الخلاء روزانہ 3 مرتبہ دھوئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر نماز کے بعد بھی صفائی کی جاتی ہے۔ مسجد کے اطراف 23 وضو خانے موجود ہیں جبکہ اور 7 زیر تعمیر ہیں۔
مسجد نبوی میں صفائی اور قالینوں کی نگرانی انتظامیہ کے سربراہ کے مطابق حرم مدنی کے اندر، اس کی چھت پر، اس کے صحنوں اور توسیع میں 16 ہزار سے زیادہ قالین بچھے ہوتے ہیں۔
ان قالینوں کو ویکم مشینوں کے ذریعے دن میں تین بار صاف کیا جاتا ہے جبکہ ان پر لگی یا گری اشیاء کو صاف کرنے کے لیے شرعی طریقے سے دھو کر پاک کیا جاتا ہے۔ بقیہ قالینوں کو مقرر کردہ شیڈول کے مطابق خصوصی مشینوں کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں