Haveli News 209

فاروڈ کہوٹہ تحصیل حویلی کا ضلع حویلی تک سفر

فاروڈ کہوٹہ تحصیل حویلی کا ضلع حویلی تک سفر

حویلی ایک صحت افزا مقام اور خوبصورت وادیوں پر مشتمل ایک خطہ ہے. جو قدرتی حسن میں اپنی مثال آپ ہے.
حویلی کی اپنی تاریخ بہت پرانی ہے. اس کی تاریخ یوں ہے. یہاں ایک مسلمان وزیر میاں نظام الدین گزرے.
جن کے نام سے عظیم الشان عمارت میاں نظام الدین کی حویلی کے نام سے تعمیر ہوئی.
اس کے قریب ایک مسجد انہی کے نام سے بنائی گئی. اس عمارت کے نام پر پونچھ کی مرکزی تحصیل کا نام بھی حویلی ہو گیا.
ضلع حویلی باغ شہر کے ساتھ منسلک تھا. اس کی آبادی 84 دیہات اور 1،50،000 سے زائد نفوس پر مشتمل تھی.ایک وقت تھا جب حویلی کا نظام باغ شہر سے چلائے جاتے تھے.انتظامی مشینری کا سارہ کنٹرول باغ شہرمیں تھا.
لیکن جب دونوں اضلاح کی آبادی بڑھی تو ایک نئے ضلع وجود میں آیا.جو حویلی کہوٹہ کے نام سے وجود میں آیا.

حویلی کا کل رقبہ 598 کلو میٹر ہے. یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کاشت کاری ہے. آبادی کا بڑا حصہ تدریس کے پیشہ سے منسلک ہے. حویلی نے بڑے سپوتوں کو جنم دیا. جن میں ممتاز حسین راٹھور مرحوم، چوہدری طالب حسین مرحوم، چوہدری محمد عزیز، مولانا عالم رضوی، شامل ہیں.
شرح خواندگی میں حویلی کو اعزاز حاصل ہے کہ علم و دانش کا گہوارہ ہے. حویلی نے بہت سی علمی شخصیات پیدا کیں
ان میں چراغ حسن حسرت جیسی علمی شخصیت کا پیدا ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں جنہوں نے تحریر و بیاں سے اس خطے کی نیک نامی میں اظافہ کیا سردار محمد اقبال خان ریٹائرڈ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بھی حویلی کے ایک سپوت تھے.
ملک کے بڑے قانون دان میں شمار تھے. اس خطے نے حافظ محمد یعقوب ہاشمی جیسے ذہین و فطین پیدا کیے.
تحصیل حویلی سے ضلع حویلی کا سفرمشکل تھا. ضلع کی تحریک کے محرک ممتاز حسین راٹھور تھے.
مگر ان کی زندگی میں یہ خواب ہی رہا. حیرت یہ ہے کہ ان کے خواب کو ان کےسیاسی حریف نے شرمندہ تعبیر کر کے ثابت کیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن عوامی مسائل کو یکساں طور پر اہمیت دی جاتی ہے.
چوہدری محمد عزیز حلقہ سے منتخب ایم ایل یے ہیں یہ ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے. انہوں نے ایک بڑا عوامی وعدہ پورا کیا.
یہ تین بار قائم مقام وزیر اعظم رہ چکے ہیں.
لیکن حویلی کے مسائل آج بھی جو کے تو ہیں ضلع کا درجہ حاصل ہونا ایک بڑا کام ہے لیکن بنیادی سہولیات کا فقدان ایک بڑا المیہ ہے.
آج ترقی یافتہ دور میں ہر چیز انسان کی دسترس میں ہے لیکن یہاں کے کوگوں کی زند گیوں کو دیکھ کر ایک با شعور انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گزار رہے ہیں.
پن بجلی کا منصوبہ تیار تو ہو گیا لیکن اس میں ہر چوتھے دن کوئی نہ کوئی نقص آتا یے جس سے حویلی میں تاریخی چھا جاتی ہے.
Night
اس سے پہلے عوام کے لیے ہجیرہ اور عباسپور کے گرڈ سٹیشن سے بجلی سپلائی کی جاتی تھی.

حویلی میں ایک ( ڈی ایچ کیو) اسپتال تو ہے لیکن ڈاکٹرز کی ٹیم اور اسپتال کی مکمل مشنری دستیاب نہیں ہے
دور دراز سے آئے بزرگ مرد و خواتین بچے پورا دن ڈاکٹر کے انتظار میں ہوتے ہیں. خواتین ڈاکٹرز کی بات کی جائے تو مزاق سے کم نہیں ہو گا.
ایمبولینس تو ہیں مگر وہ مریضوں کے بجائے ڈاکٹرز کے لیے مختس ہیں.
زیادہ تر مریض کلینک کا رخ کرتے ہیں.

حویلی کہوٹہ جنگلات بلندوبالا پہاڑوں، ندی نالوں اور میٹھے پانی کے جھرنوں کی خوبصورت وادی ہے.

اس وادی میں داخلے کے چند راستے ہیں، جس میں باغ کی جانب سے لسڈنہ، عباس پور کی جانب سے چڑی کوٹ اور محمود گلی کا راستہ، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں داخلے کیلئے دیگوار اور پیر پنجال کے راستے ہیں.
باغ شہر سے داخلے کے لیے لسڈنہ کے خوبصورت پہاڑ ہیں اونچے درختوں میں لسڈنہ قدرت کا حسین شا ہکار ہے.

Lasdana
سیاحت میں حاجی پیر، شیروڈھارا، جو کہ حاجی پیر سے 10 کلو میٹر اور حویلی سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر علی آباد کا تاریخی مقام ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں