209

دسمبر کی دھوپ اور شاعری کا پت جھڑ

دسمبر کی سرد شامیں، کانپتے دنوں اور دھند میں لپٹی یخ صبح کا تصور کرتے ہی ایک اداسی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ جہاں دسمبر میں درختوں کے پتے جھڑنے لگتے ہیں اسی طرح مختلف لوگوں کے منہ سے دسمبر میں شعر جھڑنے لگتے ہیں اور نئے نئے شاعر اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری کے ساتھ سوشل میڈیا پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔
جی۔۔۔۔ دسمبر آ نہیں رہا ۔۔۔ دسمبر آگیا ہے۔ سال کا آخری مہینہ دسمبر اپنے ساتھ پورے سال کی بہت سی تازہ یادیں لے کر آتا ہے اور پھر ہم سے بچھڑ جاتا ہے۔ جس طرح ہر موسم انسانی نفسیات اور مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح اس مہینے میں بھی کچھ ایسا ضرور ہے جو لوگوں کو ایک عجیب سی کیفیت میں ڈال دیتا ہے۔ ایسے ہی شعرا کا دسمبر پر یہ الزام ھے کہ
گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر
وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر
سال کے اس آخری مہینے میں ان خزاں رسیدہ شاعروں کی شاعری پڑھیں تو ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ اس صدی کا پہلا اور آخری دسمبر ہے۔ بے تکے الفاظ سے جڑے ہوئے مصرعوں میں ناکام عاشقوں کے تمام جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں