پاک کرکٹ ٹیم 196

تم جیتو یا کہ ہارو ۔۔ اب کوئی فرق نہیں

ٹیم کی ہار جو اکثر شکست سے دوچار رہتی ہے۔ اس کا غم تو غلط نہ ہو سکے گا لیکن ہمارے بے درد صفت بھائی صاحب کو یہ بھی قبول نہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کسی بھی کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتی  ہے اور پھر ہمیں یہ جملہ یاد ہو گیا اور ٹیم کی اتفاقی جیت ملنے پر اس جملے پر یقین کر لیتے تھے۔ 
کبھی تو بھائی کو یہ بھی مشورہ کر دیتے کہ آپ میچ نہ دیکھیں۔ کل خبروں میں دیکھیں گے تو ٹیم میچ جیت چکی ہو گی لیکن ہمارے بھائی کو ہمارا یہ مشورہ کبھی پسند نہ آیا۔ وہ ون ڈے تو کیا ٹیسٹ میچز کی ایک ایک بال بھی شوق سے دیکھتے ہیں اور ہم بیچارے اپنا من چاہا ڈرامہ دیکھنے کی آس میں ٹی وی کے سامنے اسے غور سے دیکھتے رہتے کہ کہیں شاید بھائی صاحب کو رحم آجائے اور وہ ریموٹ دے دیں۔
لیکن یہ تو صرف ایک دیوانے کا خواب تھا۔ اور یہ بھی کہا جاتا کہ ٹیم کے لیے دعا کرنی ہے تو وہ بھی چپکے سے کرنا۔ اگر ٹیم کی ہاربرداشت نہ ہو تو خاموشی سے باہر چلے جاو۔ اب آپ کو تو معلوم ہے پاکستانی ٹیم تو آسان ٹیم سے بھی میچ کو سنسنی خیز بنا دیتی ہے۔ ایسے میچ میں  کئی بار ایسے مراحل آتے ہیں کہ کبھی تو بہت ہنسنے کا دل کرتا ہے کبھی رونے کا۔
ان جذبات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے ہمارے بھائی جان نے ہمیں پاکستان کا ہر میچ دیکھنے کا عادی بنا دیا۔ یہاں تک کہ اب ہمیں ڈراموں کے بجائے میچ دیکھنے کی بے چینی سی ہوتی، یہاں تک ہم ڈراموں کو بھی بھول جاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں