ایک کھرب پتی لکڑ ہارا کی کہانی 168

ایک کھرب پتی لکڑ ہارا کی کہانی

ایک کھرب پتی لکڑ ہارا کی کہانی

ایک بات کا تذکرہ کیا کہ نودولتیوں کے وطن میں ایک غریب لکڑہارا رہا کرتا تھا، اس کی 2 دو وقت کی روٹی مشکل سے چلتی تھی. غربت کا اندازہ حقیقت کے اعتبار سے کیا تو اس کے پاس ٹچ ڈسپلے فون بھی نہ تھا ۔

لکڑہارا بہت سویرے جنگل جا کر لکڑیاں کاٹتا شام کو شہر لاکربیچ دیتا، بڑی مشکل سے چار چھ پیسے بچتے۔
اس کی بیوی ایک صابر اور شکرگزار عورت تھی اور اُس کا نام بھی صابرہ تھا، کبھی بھی اُس نے اپنے خاوند کی استطاعت سے زیادہ کی کوئی فرمائش نہیں کی، ماہ میں زیادہ سے زیادہ دو بار وہ برمہنگے کپڑوں یا پھر جوتوں کی فرمائش کیا کرتی اگر لکڑہارا اس کی یہ خواہش پوری نہ کر پاتا تو وہ صبرو شکر کرکے سو جاتی۔

وقت گزرتا رہا، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ لکڑ ہارے کی بیوی امید سے ہو گئی، اِس خبر کو لکڑ ہارے سنتے ہی خوشی سے تروتازہ ہوا، اسے محسوس ہوا جیسے اب اُس کی زندگی میں خوشیاں آئیں گئی، وہ بے صبری سے بیوی کی ڈیلوری کا انتظار کرنے لگا، لکڑہارے کو اپنے بچے کی پیدائش کا انتظار تھا کہ وہ ایک دن سے پہلے اکیلا ہسپتال پہنچ گیا۔ ڈاکٹرنے مشکل سے سمجھا کر اسے واپس بھیجا دیا کہ وہ بیوی کو لے آئے۔ آخر خدا نے ان کو چاند جیسا بیٹا عطا کیا، اس نے بیٹے کا نام چاند رکھ دیا۔ لکڑہارا بچے کی ہیدائش سے بہت خوش تھا ، اسے اس بات پر تشویش رہتی تھی کہ اب گھرکا گزرے کیسے ہو گا۔ ایک دن ، سوچتے ہوئے ، وہ کمر پر لکڑیاں لے کر شہر واپس آرہا تھا کہ ایک گاڑی ایک دم سڑک پر نمودار ہوئی۔
ڈرائیور نے وقت پر بریک لگا دی اور لکڑہارا بچ گیا۔

لکڑ ہارے کی جان بچ گئی لیکن اُس کی تمام لکڑیاں سڑک پر بکھر گئیں۔ گاڑی مالک، شکل سے کوئی جاسوس لگتا تھا، جانے کیوں اسے لکڑہارے پر رحم آ گیا، اُس نے لکڑہارے کا نقصان پورا اور اسے اپنا کارڈ دے کر کہا کسی دن آ کر ملنا۔ لکڑ ہارے نے کارڈ دیکھا، نام کے نیچے لکھا تھا ’’موٹیوویشنل سپیکر‘‘
اگلے دن لکڑہارا موٹیویشنل سپیکر کے گھر پہنچ گیا، اس کا نام دیو جانس کلبی فرض کر لیتے ہیں۔ مسٹر کلبی نے لکڑہارےکی زندگی سے متعلق کچھ سوال پوچھے جس سے اس کو اندازہ ہوا کہ لکڑہارے کو موٹیویشن کی ضرورت
ہےلکڑہارے نے بتایا کہ وہ بہت محنتی، ایماندار ہے، اس کے دل میں لالچ نہیں، ایک دفعہ اس کا کلہاڑا دریا میں گر گیا تو اس کے بدلے اسے سونے کا کلہاڑا دیا گیا جسے لینے سے لکڑ ہارے نے انکار کر دیا تھا تو پھر اسے اصل کلہاڑا واپس کر
دیاگیا۔ لکڑہارے کو آج بھی اس بات کا پچھتاوا ہے.
کلبی نے لکڑ ہارے کو سمجھایا اب زمانہ تبدیل ہو چکا ہے، محنت، ایمانداری، قناعت، سب بے کاری کی باتیں ہو چکی ہیں، آج کی دنیا میں اگرسر اٹھا کر جینا ہے تو پیسے کمانے ہوں گے اور پیسے کمانے کے لیے محنت سے زیادہ مکاری، ایمانداری سے زیادہ سمارٹنس اور قناعت سے زیادہ حرص کی ضرورت ہوتی ہے، اُن موٹیویشنل سپیکروں کا زمانہ گیا جو لوگوں کو باتیں رٹا کر امیر ہونے کے طریقے سکھاتے تھے، اپنے ارد گرد دیکھو جتنے لوگ امیر ہیں اُن میں سے کتنے تمہاری طرح شرافت کے بُت اور کتنے میری طرح شیطانی دماغ کے ہیں!
اِن باتوں کے بعد مسٹر کلبی نے لکڑہارے کو کچھ ٹپس بتائے اور کہا کہ وہ بہت زیادہ اِن پر عمل کرے اور پھر قدرت کا کام دیکھے۔
لکڑہارے نے یہی سب کیا۔ اُس نے اپنا پرانا گھر بیچا اورسازو سامان سپلائی کرنے کی چھوٹی سی دوکان بنا لی، شروع شروع میں مسٹر کلبی نے اُس کی مدد کی اور چند گورمنٹ اہلکاروں سے ملاقات کروائی جنہوں نے اسے چھوٹے موٹے گورمنٹ ٹھیکے دینے شروع کیے، بدلے میں ہمارے اس ہیرو نے اُن کی مٹھیاں گرم کیں، آہستہ سے ٹھیکوں کی قیمت بڑھنے لگی، وقت گزرتا گیا، لکڑ ہارا امیر ہوتا گیا، بات کروڑوں تک پہنچ گئی۔
اُس نے نیا کا م شروع کیا، سرکار کی زمین بے داموں خرید کر اُس پر ہاؤسنگ سکیمیں شروع کر دیں، اُس کی ترتیب کی گئی سکیم سرکاری ادارے فوراً قبول کر لیتے تھے،آج وہ ’وطن نودولتیاں‘ میں کھرب پتی ہے، کامیابی کی ایک داستان ہے، جس چیز پر ہاتھ رکھ دے وہ اُس کی ہو جاتی ہے، اتنی دولت کے باوجود اپنا ماضی نہیں بھولا۔
وہ (حکومت کو ٹیکس دینے کی بجائے) بھوکوں کو فری میں کھانا کھلاتا ہے، بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرتا ہے بے دین لوگوں کو نیکی (اور اپنی سوسائٹی) کی طرف مائل کرنے کے لیے مسجدیں تیار کرواتا ہے اور لوگوں کو موٹیویٹ کرنے کے لیے ٹی وی انٹرویو دیتا کہ لوگ اس کی طرح کامیاب ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں