207

احتجاج وہ جو سب کو اصل لگا

ٹرانسپورٹ بند، نیٹ ورک جام، اسلام آباد کو کنٹینرز سےچھپا دیا گیا۔ جیسے مکھیوں سے بچانے کے لیے شہد کو ڈھانپا جاتا ہے۔ لمبی لائنو ں میں لگی شہریوں کی گاڑیاں اس غیر فطری صورتحال سے مجبور رہیں احتجاجی آئیں گے تو کیا ہوگا؟جب وہ آئے جن کو روکنے کے لیے کنٹینر لگا رکھے تھے، انہیں راستہ دیا گیا اور وہ پشاور موڑ پہنچ کر بیٹھ گئے، یہ احتجاج بہت مزیدار رہا۔ اسلام آباد کے پرسکون موسم میں کہیں والی بال تو کہیں فٹ بال، کھیل بھی چلتے رہے، احتجاج ہوتا رہا۔ مولانا فضل الرحمان آئے، احتجاج کیا اور چلے گئے۔
اب کے وزیراعظم تب کے احتجاجی عمران خان صاحب کا کنٹینر بھی ڈی چوک میں دیکھا، تب بھی کنٹینر 126 دن عوام کا منہ چڑاتے رہے، پھر 2016 میں بھی باتیں کنٹینر پر جانے لگی تھی کہ اسلام آباد لاک ڈاؤن رک گیا۔
احتجاج میں پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں نے پکوڑے تلنا شروع کیے، کسانوں نے آلو پیاز کی منڈی لگا دی۔
خیر! احتجاج جمہوری حق ہے، استعمال کرنا چاہیے، بولنا چاہیے، اپنا حق مانگنا چاہیے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک خاتون لاہور کے کسی میدان میں بغیر کنٹینر اور مائیک گانے سے زیادہ رجزیہ انداز میں ’سرفروشی کی تمنا‘ گا رہی تھیں۔ دیگر طالبعلم ان کا ساتھ دے رہے تھے، ساز بج رہا تھا، پورے ملک میں آواز گونجی تو معلوم چلا کہ یہ احتجاج تھا، لیکن وہ شاید بتا رہے تھے کہ احتجاج کا یہ بھی کوئی طریقہ ہو گا، آپ کو نظریات سے اختلاف سہی، اس سے تو انکار نہیں کہ یہی فرق ہے اصلی اور نقلی ڈگری میں، کلام چنا گیا، پڑھا گیا، یہ کلام ان کے باغی ہونے کے نظریات نہیں، جوان خون کی باغیانہ روش کا عکاس ہے جو صرف اپنی جماعت میں سٹوڈنٹ یونین کے طلب گار تھے تاکہ طالبعلموں کا استحصال نہ ہو، وہ کسی کو گالی نہیں دے رہے، نہ کسی کی نقل اتار رہے ہیں، پڑھے لکھے ہیں، عمدہ کلام کا انتخاب کرکے آواز پیدا کر رہے ہیں، جس کی گونج آج مجھے لکھنے پر مجبور کررہی ہے۔
احتجاج کرکے ٹرانسپورٹ ک بند کرنا ضروری نہیں۔بہر حال میں زیادہ تو نہیں جانتا
احتجاج شاید انو کھا ہو، لیکن یہ اس احتجاج سے بہتر ہے جہاں قیادت کے ایجنڈے پر آئے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ آئے کیوں ہیں؟ سٹوڈنٹ یونینز طلبا کا حق ہے، جہاں وہ اپنے مسائل پر بات کرسکتے ہیں، اور مستقبل میں سیاست میں بھی بہترین تربیت اور مثبت سوچ کے ساتھ آئیں، پیسہ بنانے اور سٹیٹس دکھانے نہیں، ملک کی ترقی کے لیے آئیں، بات تو سچ ہے، فیکٹریوں کے دھویں سے یا باتوں سے تبدیلی آنی ہوتی تو اب تک آچکی ہوتی۔ ترقی سوچ کی تبدیلی سے شروع ہو گی، اور فیکٹریوں کے دھوئیں کو روکنے متبادل توانائی پر جانے اور سمندری حیات کی حفاظت بھی سوچ کی ترقی کا نام ہے، جو اس کے ثمرات میں آئے گی، نعروں اور ترانوں سے تبدیلی نہیں آئے گی، سوچ وسیع کرنی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں